ابنا: 225 اراکین پارلیمنٹ نے آج ایک بیان میں ابو موسی ۔ تنب کوچک ۔ اور تنب بزرگ نامی ایرانی جزائرکے بارے میں متحدہ عرب امارات کے بے بنیاد دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ایران کے داخلی امور میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے ۔ اپنے اس بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے پارلیمانی نمائندوں نے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے بے بنیاد دعوے سے ان جزائر کے ایرانی ہونے کے بارے میں تاریخی حقانیت ہرگز متاثر نہیں ہوسکتی ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے اراکین پارلیمنٹ نے اپنے اس بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ تہران، ایران کی ارضی سالمیت اور ابو موسی ۔ تنب کوچک ۔ اور تنب بزرگ نامی ایرانی جزائرکے اٹوٹ حصہ ہونے کو قابل مذاکرات نہیں سمجھتا تاہم وہ غلط فہمیوں کے خاتمے اور دو طرفہ تعلقات کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کیلئے اچھی ہمسائیگی اور خوشگوار تعلقات کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کے ساتھہ دو طرفہ مذاکرات کا ماضی کی مانند خیر مقدم کرتا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد اپنی کابینہ کے ساتھہ صوبائی دوروں کے دائرے میں گذشتہ ہفتے صوبے ہرمزگان گئے جہاں انھوں نے جزیرۂ ابو موسی کا بھی دورہ کیا جو ایران کا ایک اٹوٹ حصہ ہے مگر اس جزیرے کے بارے میں متحدہ عرب امارات کے حکام بے بنیاد دعوے کی بناء پر اس دورے کو ایران کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کے ایک بہانے میں تبدیل کردیا گیا۔ متحدہ عرب امارات کے حکام نے اپنے اس پروپیگنڈے کے ساتھہ کہ جزیرۂ ابو موسی خلیج فارس میں برطانوی دور کی ایک میراث ہے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے دورۂ جزیرۂ ابو موسی کو متحدہ عرب امارات کے ارضی حدود کی خلاف ورزی سے تعبیر کیا ۔
متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے اس سلسلےمیں کہا کہ خلیج فارس میں واقع جزائر پر پایا جانے والا اختلاف، عالمی سلامتی کیلئے خطرہ ہے ۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اسی حوالے سے قطر کی میزبانی میں کل خلیج فارس تعاون کونسل کے وزارائے خارجہ کا ایک اجلاس بھی تشکیل دیا گیا ۔ خلیج فارس میں جزائر ابو موسی ۔ تنب کوچک ۔ اور تنب بزرگ جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہیں ایران کا اٹوٹ حصہ ہیں اور اس رو سے ہر ایرانی وہاں جانے یا وہاں کا دورہ کرنے کا حق رکھتا ہے اور اس سلسلے میں کسی اور ملک کو کوئی وضاحت پیش کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ سرزمین ایران کی قدیمی تاریخ میں یہ جزائر ہمیشہ ایران کا حصہ رہے ہیں ۔ سنہ 1971 کے آخر میں علاقے سے انگریز سامراج کے انخلاء سے قبل کہ جس نے خلیج فارس میں ان ایرانی جزائر کو سالوں اپنی سامراجیت کا نشانہ بنایا اس سمجھوتے کے دائرے میں جو ایران کی اس وقت کی حکومت اور شارجہ کے شیخ کے درمیان برطانیہ کے براہ راست کردار سے طے پایا ایرانی سرزمین کےحدود سے جدا ہونے والے ان علاقوں پر ایران کی حاکمیت بحال کردی گئی اور اس سمجھوتے کی بنیاد پر دو دیگر ایرانی جزیرے تنب بزرگ اور تنب کوچک بھی ایران کو واپس کردئے گئے ۔ تاریخی دستاویزات کی بنیاد پر اٹھارویں صدی عیسوی تک یہ جزائر،شمالی اور جنوبی خلیج فارس کے کناروں تک کے تمام علاقے، ایران کی قلمرو میں شامل ہونے کی بناء پر ایرانی سرزمین کا حصہ رہے ہیں ۔ عالمی قوانین کے مبصر گیومر فنڈرسکی نے،جنھوں نے ان جزائر کی حاکمیت کے بارے میں تحقیقات بھی کی ہیں صراحت کے ساتھہ کہا ہے کہ سنہ 1971 کے سمجھوتے کی بنیاد پر ایران اور شارجہ نے اپنے تمام مفادات منجملہ ساحلی آبی حدود اور تیل کی آمدنی کو ایک دوسرے سے مکمل جدا کیا ۔ ایران اور شارجہ کے حکمرانوں کے درمیان مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کے چند روز بعد متحدہ عرب امارات کے نام سے ایک نیا ملک وجود میں آیا اور متحدہ عرب امارات کے قیام کے کچھہ ہفتوں کے فاصلے سے عراق ۔ لیبیاء ۔ الجزائر ۔ جنوبی یمن ۔
اور کویت کی حکومتوں نےتینوں جزائر پر قبضے کا مسئلہ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کیا مگر اس کونسل نے 1971 کے سمجھوتے کی بنیاد پر ان کے احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے اس مسئلے کے جائزے کو سلامتی کونسل کے ایجنڈے میں شامل تک نہیں کیا ۔ متحدہ عرب امارات کے بے بنیاد دعوے اور ان جزائر کے قانونی پہلوؤں سے قطع نظر اس قسم کے بے بنیاد دعووں کی تکرار کا مقصد خلیج فارس کے عرب ملکوں کے اندرونی مسائل و مشکلات کی پردہ پوشی کرنا ہے ۔ سعودی عرب ۔ بحرین ۔ کویت ۔ اردن ۔ قطر ۔ اور عمان میں سے ہر ملک کو کسی نہ کسی قسم کے ایسےاندرونی مسائل کا سامنا ہے کہ جن سے ان ملکوں کی حکومتوں کو اپنا تختہ الٹنے کا خطرہ لاحق ہے ۔ بحرین میں آل خلیفہ حکومت کا پرتشدد رویّہ ۔ سعودی عرب میں بدامنی اور شاہی خاندان میں اقتدار کی جنگ نیز کویت و قطر کے ساتھہ سعودی عرب کے دیرینہ اختلافات ،ایسے مسائل ہیں جو سالوں سے خلیج فارس کی نام نہاد تعاون کونسل میں اندرونی اختلافات کا موجب بنے ہوئے ہیں ۔ متحدہ عرب امارات بھی ان چند عرب ملکوں میں سے ایک ہے کہ دیگر ملکوں کے ساتھہ جس کی سرحدیں واضح تک نہیں ہیں اور سرحدی اعتبار سے یہ ملک بہت زیادہ کمزور واقع ہوا ہے ۔
در حقیقت ابوظبی کے حکام ایک ایسی سرزمین پر حکومت کررہے ہیں کہ اصولی طور پر وہ یہی نہیں جانتے کہ یہ سرزمین کہاں واقع ہے ۔ البتہ سیاسی و اقتصادی مقاصد کے حصول کی غرض سے ایران اور علاقے کے عرب ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدہ بنانے کیلئے مغرب کی کوششیں اور کردار ایک واضح امر ہے تاہم دوسرے پہلوؤں سے استنبول میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے حالیہ مذاکرات اور مذاکرات کا دوسرا دور عراق جو خلیج فارس تعاون کونسل کے بعض رکن ملکوں کے پڑوس میں واقع ہے اس کے دار الحکومت بغداد میں انجام دینے پر اتفاق رائے کے حوالے سے ایران کے خلاف فضا سازگار بنانا اور دیگر مسائل اٹھانا کوئی غیر مربوط مسئلہ نہیں ہے ۔ چنانچے ایرانی جزائر کے بارے میں متحدہ عرب امارات کی یاوہ گوئی اور غیر منطقی دعوے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے مختلف حکام منجملہ ایران کی بحریہ کے کمانڈر نے اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے صراحت کے ساتھہ کہا ہے کہ ان ایرانی جزائر کے بارے میں کسی کو مداخلت کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی ۔ ایران نے اپنے پڑوسی ملکوں کی سرزمینوں کو کبھی حریص نظروں سے نہیں دیکھا ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ یقینا سرزمین ایران کو ترچھی نظروں سے دیکھنے والوں کے ہاتھہ کاٹ کر رکھہ دئے جائیں گے ۔ .......
/169